خلیجی خطے میں جنگ سے پاکستانیوں کے روزگار کو خطرہ، حفیظ پاشا

اسلام آباد: سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے خبردار کیا ہے کہ خلیجی ممالک میں ممکنہ جنگی صورتحال پاکستانی معیشت اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے روزگار پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام خبر میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر خلیجی ممالک کی معیشت کمزور ہوئی تو وہاں کام کرنے والے لاکھوں پاکستانیوں کے روزگار کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کو ملنے والی ترسیلات زر اور برآمدات دونوں متاثر ہو سکتی ہیں۔
ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث پاکستان کا تجارتی خسارہ بھی بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تجارتی خسارہ تقریباً 2 ارب ڈالر ہے جو جون تک بڑھ کر 5 سے 6 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر حالات مزید خراب ہوئے تو مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک پاکستانی، بھارتی اور بنگلادیشی کارکنوں کی بڑی تعداد کو واپس بھیج سکتے ہیں، جس سے خطے کے مزدوروں پر بڑا معاشی دباؤ پڑے گا۔
پیٹرولیم قیمتوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کو ایندھن کی قیمتوں میں اتنا زیادہ اضافہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کا موجودہ اسٹاک پرانی قیمتوں پر خریدا گیا تھا، اس لیے 10 سے 15 روپے تک اضافہ مناسب ہوتا۔
انہوں نے بتایا کہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ دنوں میں تقریباً 7 فیصد کمی دیکھی گئی ہے، تاہم مقامی سطح پر مہنگائی مارچ کے اختتام تک 11 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
ڈاکٹر حفیظ پاشا کا مزید کہنا تھا کہ اگر جنگ ختم بھی ہو جائے لیکن آبنائے ہرمز بند رہی تو عالمی تجارت اور پاکستان کی معیشت کو نقصان جاری رہ سکتا ہے۔ ان کے مطابق تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے روپے کی قدر میں ایڈجسٹمنٹ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پروگرام کی آئندہ شرائط کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔












