09:35 , 10 اپریل 2026
Watch Live

اداکار فیضان خواجہ کا انکشاف: "اگر والد انڈسٹری کا حصہ نہ ہوتے تو شاید خودکشی کر لیتا”

اداکار فیضان خواجہ

پاکستانی اداکار فیضان خواجہ نے شوبز انڈسٹری میں پیش آنے والی مالی، ذہنی اور جذباتی مشکلات سے متعلق چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں، جنہوں نے شوبز کی چمک دمک کے پیچھے چھپے سچ کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔

فیضان نے حالیہ انسٹاگرام ویڈیوز میں بتایا کہ وہ اس حد تک مایوسی کا شکار ہو چکے تھے کہ اگر ان کے والد راشد خواجہ (معروف اداکار و پروڈیوسر) شوبز انڈسٹری کا حصہ نہ ہوتے تو وہ خودکشی جیسے انتہائی قدم کا سوچ سکتے تھے۔

اداکار نے کہا کہ شوبز انڈسٹری میں اداکاروں کو وقت پر معاوضہ نہ دینا ایک عام مگر انتہائی افسوسناک روایت بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا:

"میں نے کئی کمرشلز کیے لیکن مجھے پیسے لینے کے لیے منتیں کرنی پڑیں۔ اس لیے اب ایسے لوگوں کے ساتھ کام نہیں کرتا جو وقت پر ادائیگی نہیں کرتے۔”

فیضان خواجہ نے کہا کہ ان کی ویڈیوز کو میڈیا ایسے پیش کر رہا ہے جیسے وہ انڈسٹری کو "بے نقاب” کر رہے ہوں، جب کہ حقیقت میں وہ صرف سچ بول رہے ہیں۔

"میں وائرل ہونے کے لیے یہ سب نہیں کر رہا۔ یہ اُن فنکاروں کی آواز ہے جو آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔”

اداکار نے اعتراف کیا کہ انہیں 99 فیصد لوگوں سے مثبت رویہ ملا اور وقت پر معاوضہ بھی دیا گیا، لیکن وہ اس 1 فیصد طبقے کے خلاف بول رہے ہیں جو فنکاروں کی محنت کا استحصال کرتا ہے۔

"میرے آخری ڈرامے کو پانچ سال ہو چکے ہیں، اس کے بعد صرف اُنہی لوگوں کے ساتھ کام کیا جو بروقت ادائیگی کرتے ہیں۔”

فیضان نے شوبز چینلز اور آن لائن انٹرٹینمنٹ کے معاشی تضاد پر بھی روشنی ڈالی:

"ڈکی بھائی اور رجب بٹ جیسے یوٹیوبرز ایک سال میں جتنا کماتے ہیں، ایک ٹی وی چینل ایک مہینے میں کما لیتا ہے۔ پھر بھی اداکاروں کو معاوضے کے لیے ترسایا جاتا ہے۔”

فیضان خواجہ نے اعلان کیا کہ وہ جلد ایک اور ویڈیو جاری کریں گے جس میں اُس پروڈیوسر کا نام لیں گے جس نے ان کا حق مارا۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION