12:20 , 3 اپریل 2026
Watch Live

تیل کی عالمی قیمتوں میں بڑا اضافہ، جنگی کشیدگی کے اثرات

تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے توانائی مارکیٹ کو شدید متاثر کیا ہے۔ جمعرات کے روز تیل کی قیمتوں میں اچانک تیزی آئی، جس سے سرمایہ کاروں میں بے چینی بڑھ گئی۔

برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 8 فیصد اضافے کے بعد 109 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 11 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 111 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ حالیہ برسوں میں سب سے بڑی یومیہ بڑھوتری میں سے ایک ہے۔

یہ اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ آئندہ ہفتوں میں حملے مزید تیز کیے جا سکتے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔

ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں تقریباً 7 فیصد اضافہ

دوسری جانب آبنائے ہرمز کی بندش نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ یہ اہم بحری راستہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ راستہ بند رہا تو تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔

مارکیٹ ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں کو سب سے زیادہ تشویش تیل کی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں سے ہے۔ اگر خطے میں تنازع طویل ہو گیا تو عالمی معیشت پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ادھر مختلف عالمی اداروں نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو تیل کی قیمتیں 120 سے 130 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں، جبکہ کچھ اندازوں کے مطابق یہ 150 ڈالر تک بھی پہنچ سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا انحصار آئندہ دنوں میں جنگی صورتحال اور آبنائے ہرمز کی بحالی پر ہوگا، جو عالمی معیشت کے لیے ایک اہم عنصر بن چکا ہے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION