پیٹرول کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، حکومت کا ہدفی ریلیف پیکج

حکومتِ پاکستان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کرتے ہوئے ساتھ ہی عوام کو ریلیف دینے کے لیے ہدفی سبسڈی پیکج کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث کیا گیا ہے۔
سرکاری اعلان کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 137.23 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 458.41 روپے ہو گئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمت میں 184.49 روپے اضافہ ہوا ہے اور یہ 520.35 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی 34.08 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔
عوامی دباؤ کو کم کرنے کے لیے حکومت نے محدود مگر ہدفی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں کو فی لیٹر 100 روپے سبسڈی دی جائے گی، جو ماہانہ 20 لیٹر تک محدود ہو گی اور تین ماہ تک جاری رہے گی۔ چھوٹے کسانوں کو فصل کے سیزن میں فوری سہولت دینے کے لیے فی ایکڑ 1500 روپے امداد فراہم کی جائے گی۔
پاکستان میں پیٹرول کی نئی کھیپ پہنچ گئی، ترسیلی نظام میں استحکام کی امید
ٹرانسپورٹ سیکٹر کو بھی ریلیف دیا گیا ہے تاکہ کرایوں اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کو روکا جا سکے۔ مال بردار گاڑیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے خصوصی مالی امداد کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ پاکستان ریلوے کو بھی سبسڈی دی جائے گی تاکہ مسافروں اور کاروباری طبقے کو سہولت مل سکے۔
حکومت نے پیٹرول پر لیوی بڑھا دی ہے جبکہ ڈیزل پر لیوی ختم کر دی گئی ہے تاکہ ٹرانسپورٹ اخراجات کو قابو میں رکھا جا سکے۔ توانائی بچانے کے لیے مارکیٹوں کی جلد بندش کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، جس سے تقریباً 1200 میگاواٹ بجلی بچانے کا ہدف ہے۔
حکام کے مطابق یہ فیصلے معیشت کو مستحکم رکھنے اور عالمی حالات کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ضروری ہیں۔
ایران۔امریکہ کشیدگی کے بعد دنیا بھر میں 85 سے زائد ممالک میں پیٹرول مہنگا














