11:30 , 1 فروری 2026
Watch Live

سندھ طاس معاہدے پر بھارتی یکطرفہ اقدامات، سلامتی کونسل میں آریا فارمولہ اجلاس

سندھ طاس معاہدے پر بھارتی یکطرفہ اقدامات

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے غیر قانونی اقدامات پر بحث کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آریا فارمولہ اجلاس منعقد ہوا، جس کی میزبانی پاکستان نے کی۔ اجلاس کا مرکزی موضوع ’’معاہدات کی حرمت کے تحفظ‘‘ رکھا گیا۔

یہ اجلاس 30 جنوری کو منعقد ہوا جس میں دنیا کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے 40 رکن ممالک نے شرکت کی، تاہم بھارت نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ شرکاء نے بھارتی اقدامات پر سنجیدہ قانونی اور سفارتی خدشات کا اظہار کیا۔

آریا فارمولہ اجلاس سلامتی کونسل کا ایک غیر رسمی اور بند کمرہ فورم ہوتا ہے جسے کوئی بھی رکن ملک طلب کر سکتا ہے، اور اس میں سلامتی کونسل سے باہر کے ممالک، بین الاقوامی اداروں اور غیر ریاستی تنظیموں کے نمائندے بھی شرکت کر سکتے ہیں۔

اجلاس میں اقوام متحدہ آفس آف لیگل افیئرز کے ڈیوڈ نینوپولوس، ریسرچ سوسائٹی آف انٹرنیشنل لا کے صدر احمر بلال صوفی، انٹرنیشنل پیس انسٹیٹیوٹ کے صدر پرنس زید رعد الحسین اور بوسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر عادل نجم نے تفصیلی بریفنگ دی۔

بھارت کی دریائے چناب پر پن بجلی منصوبے کی منظوری دے کر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی معاہدے قانونی طور پر پابند ہوتے ہیں اور عالمی تعلقات میں استحکام کی بنیاد فراہم کرتے ہیں، جبکہ بین الاقوامی قانون کو کمزور کرنا اجتماعی سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

اجلاس میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے اقدام کو بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا، اور خبردار کیا گیا کہ اس کے علاقائی اور عالمی سطح پر دور رس منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر مؤثر ہے اور دونوں ممالک اس کے تحت موجود تنازعات کے حل کے طریقہ کار پر عملدرآمد کے پابند ہیں، جبکہ شریک ممالک نے ایسے معاہدات کو علاقائی استحکام اور تنازعات کی روک تھام کے لیے ناگزیر قرار دیا۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION