ایران میں جاں بحق ہونے والے تین پاکستانی نوجوانوں کی لاشیں پاکستان پہنچا دی گئی ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ نوجوان برفانی طوفان میں پھنس کر جان کی بازی ہار گئے تھے۔ ضروری قانونی کارروائی اور شناخت کے بعد ایران میں جاں بحق تین پاکستانیوں کی لاشیں وطن پہنچ گئیں اور انہیں ورثاء کے حوالے کر دیا گیا، جس کے بعد ملک بھر میں افسوس کی فضا پائی جا رہی ہے۔
شناخت مکمل ہونے کے بعد اصغر علی اور عبدالواسط کی تدفین ان کے آبائی علاقوں میں کر دی گئی۔ تاہم تیسرے نوجوان کی میت کے معاملے میں پیچیدگی سامنے آئی۔ حمزہ احسان کے نام سے گوجرانوالہ لائی گئی لاش کو اہل خانہ نے پہچاننے سے انکار کر دیا۔
حمزہ احسان کی والدہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو میت انہیں دی گئی وہ ان کے بیٹے کی نہیں ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ ان کے بیٹے کی درست لاش تلاش کر کے ان کے حوالے کی جائے تاکہ وہ اپنے بچے کو آخری دیدار کے بعد سپرد خاک کر سکیں۔
مزید پڑھیں: ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے ورکنگ ریلیشن شپ مضبوط کرنے اور مشاورتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق
سرکاری معلومات کے مطابق یہ تینوں نوجوان دسمبر میں پاکستان سے عراق جانے کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ ایران میں شدید برفانی طوفان کے باعث وہ راستے میں پھنس گئے، جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوئی۔
ادھر ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث انسانی اسمگلرز کے خلاف کارروائی جاری ہے اور ایک ملزم احسان شاہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق مزید تحقیقات جاری ہیں جبکہ ایران میں جاں بحق تین پاکستانیوں کی لاشیں وطن پہنچ گئیں کے معاملے پر مکمل شفافیت یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔












