01:33 , 20 مارچ 2026
Watch Live

ایران کا آبنائے ہرمز پر ٹرانزٹ فیس عائد کرنے پر غور، عالمی تجارت متاثر ہونے کا خدشہ

ایران کا آبنائے ہرمز پر ٹرانزٹ فیس عائد کرنے پر غور

ایران نے اہم عالمی آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹرانزٹ فیس عائد کرنے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے، جس سے عالمی تجارت پر اثرات پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ اقدام ایران کی جانب سے اس اہم راستے پر اپنے بڑھتے ہوئے کنٹرول کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنے کی کوشش ہو سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران ان جہازوں کی نقل و حرکت کو متاثر کیا ہے جنہیں وہ اپنے مخالفین یا ان کے اتحادیوں سے منسلک سمجھتا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایک رکن پارلیمان نے بتایا کہ ایک نیا بل زیر غور ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام ممالک کو، چاہے وہ تجارتی سامان، توانائی یا خوراک لے جا رہے ہوں، ایران کو ٹول اور ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

ایران کا مؤقف: خلیجی علاقوں میں حملوں کے پیچھے امریکا ہے

دریں اثنا ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا نظام متعارف کرایا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس مجوزہ نظام کے تحت ایران ان ممالک پر سمندری پابندیاں بھی عائد کر سکے گا جنہوں نے اس پر اقتصادی پابندیاں لگا رکھی ہیں۔

محمد مخبر کے مطابق ایران اپنی اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے مغربی ممالک پر دباؤ بڑھا سکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر ان کے جہازوں کی اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے کو محدود بھی کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION