05:05 , 6 فروری 2026
Watch Live

اسرائیلی فضائی حملے: غزہ میں 24 فلسطینی جاں بحق، خواتین اور بچے بھی متاثر

اسرائیلی فضائی حملے

غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں کے دوران مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 24 فلسطینی جاں بحق ہو گئے، جن میں دو نومولود بچے بھی شامل ہیں۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق حملوں میں خواتین، بچے اور ایک ڈیوٹی پر موجود طبی اہلکار بھی ہلاک ہوئے، جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے۔

اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں تین عسکری رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا اور یہ کارروائیاں اس وقت کی گئیں جب غزہ میں موجود اسرائیلی فوجیوں پر فائرنگ ہوئی، جس میں ایک ریزرو فوجی زخمی ہوا۔

شفا اسپتال کے حکام کے مطابق شمالی غزہ کے طفاح علاقے میں ایک عمارت پر حملے میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں خواتین اور بچے شامل تھے۔ اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابو سلمیہ نے کہا کہ سیزفائر کے باوجود زمینی صورتحال سے محسوس ہوتا ہے کہ جنگ رکی نہیں ہے۔

اماراتی وزیر کا بیان، غزہ کی حکمرانی فلسطینیوں کا حق

خان یونس کے المواسی علاقے میں ایک خیمے پر حملے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جن میں ایک پیرا میڈک بھی شامل تھا۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس حملے میں حماس کے ایک کمانڈر کو نشانہ بنایا گیا اور شہریوں کو نقصان سے بچانے کی کوشش کی گئی۔

غزہ سٹی کے الشاطی پناہ گزین کیمپ میں بھی ایک حملے میں ایک شخص جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔ مجموعی طور پر بدھ کے روز ہونے والے حملوں میں 38 افراد زخمی ہوئے۔

اکتوبر 2025 میں نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود وقفے وقفے سے ہونے والے حملوں نے سیزفائر کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ جنگ بندی کے بعد اب تک اسرائیلی حملوں میں 556 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں نصف سے زیادہ خواتین اور بچے شامل ہیں، جبکہ اسرائیل کے مطابق اس دوران اس کے چار فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

رفح بارڈر کراسنگ پر آمد و رفت محدود رہی، جہاں مریضوں اور اہلِ خانہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اگرچہ انسانی امداد میں کچھ اضافہ ہوا، تاہم سیزفائر معاہدے کے اہم نکات، بشمول غزہ کی تعمیر نو اور بین الاقوامی سیکیورٹی فورس کی تعیناتی، ابھی تک تعطل کا شکار ہیں۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION