07:45 , 12 مئی 2026
Watch Live

شناختی کارڈ قوانین میں 23 سال بعد بڑی تبدیلیاں

شناختی کارڈ
اسلام آباد – پاکستانی شہریوں کے لیے ایک خوش آئند خبر سامنے آئی ہے، کیونکہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شناختی کارڈ کے قوانین میں 23 سال بعد نمایاں تبدیلیاں متعارف کرا دی ہیں، جن کے تحت متعدد سہولیات اب آن لائن دستیاب ہوں گی۔

 

حکام کے مطابق نئی اصلاحات کا مقصد عوامی سہولت کو بہتر بنانا اور ملک کے شناختی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد نافذ کی گئی ان تبدیلیوں کے تحت شہری اب گھر بیٹھے شناختی کارڈ کے حصول، تجدید، یا درستگی جیسے امور نادرا کی موبائل ایپ یا ویب پورٹل کے ذریعے انجام دے سکیں گے۔

نادرا کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ان اصلاحات کا ایک اہم پہلو بائیومیٹرک تصدیق کے نظام کو جدید بنانا ہے، جس سے ڈیٹا کے تحفظ کو مزید مؤثر اور نظام کو شفاف بنایا جا سکے گا۔ بائیومیٹرک اپڈیٹس کے ساتھ شناختی دستاویزات کی تصدیق کا عمل بھی زیادہ محفوظ اور تیز تر ہو جائے گا۔

اس کے علاوہ، بچوں کی پیدائش کے اندراج سے متعلق قوانین میں بھی ترمیم کی گئی ہے۔ اب نوزائیدہ بچوں کی رجسٹریشن کے لیے یونین کونسل میں اندراج لازمی قرار دیا گیا ہے، جس کا مقصد جعلی اور غلط ڈیٹا کی روک تھام کرنا ہے۔

نادرا کی جانب سے ان اصلاحات کو "ڈیجیٹل پاکستان” کے وژن کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا گیا ہے، جس سے نہ صرف شہریوں کا وقت اور وسائل بچیں گے بلکہ سرکاری خدمات میں شفافیت اور کارکردگی بھی بڑھے گی۔

نئی پالیسیوں پر مکمل عمل درآمد آئندہ چند ہفتوں میں متوقع ہے، جبکہ نادرا کی ویب سائٹ اور موبائل ایپ کو بھی اس مقصد کے لیے اپڈیٹ کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION