12:14 , 3 اپریل 2026
Watch Live

اوورسیز یوٹیوبرز پر نیا ٹیکس، حکومت کی بڑی تجویزپر

یوٹیوبرز پر نیا ٹیکس پاکستان

حکومتِ پاکستان نے بیرون ملک مقیم پاکستانی یوٹیوبرز پر نیا ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان میں دیکھی جانے والی ویڈیوز سے حاصل ہونے والی آمدن کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے۔ موجودہ معاشی حالات کے پیش نظر حکومت ڈیجیٹل معیشت سے بھی ریونیو حاصل کرنا چاہتی ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مطابق ہر 1,000 ویوز پر 195 روپے ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ اس طرح یہ شرح مختلف صورتوں میں 16 فیصد سے 66 فیصد تک بن سکتی ہے۔ تاہم، اس شرح میں وقتاً فوقتاً تبدیلی بھی ممکن ہے، جس کا فیصلہ حکومت کرے گی۔

یہ مجوزہ قانون صرف ان غیر رہائشی افراد پر لاگو ہوگا جو سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان سے آمدن حاصل کرتے ہیں۔ خاص طور پر وہ یوٹیوبرز جو بیرون ملک بیٹھ کر پاکستانی سیاست، معیشت یا دیگر موضوعات پر مواد بناتے ہیں اور جن کے ناظرین کی بڑی تعداد پاکستان میں موجود ہے۔

مظفر آباد میں پہلا اوورسیز کشمیری کنونشن شروع

ایف بی آر نے اس قانون کے اطلاق کے لیے ایک حد بھی مقرر کی ہے۔ اگر کسی یوٹیوبر کے سالانہ صارفین 50 ہزار سے زیادہ ہوں یا کسی سہ ماہی میں 12,250 صارفین ہوں تو وہ اس قانون کے دائرہ کار میں آئیں گے۔ اس طرح صرف بڑے اور باقاعدہ آمدن حاصل کرنے والے یوٹیوبرز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

حکام کے مطابق آمدن کا حساب ویوز، ویڈیوز کی تعداد اور فی ویو آمدن کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ اخراجات کی مد میں زیادہ سے زیادہ 30 فیصد تک رعایت دی جائے گی۔ اگر کوئی یوٹیوبر کم آمدن ظاہر کرے گا تو ایف بی آر اسے درست کر کے ٹیکس وصول کر سکے گا۔

تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قانون پر مکمل عملدرآمد یوٹیوب کی انتظامیہ کے تعاون کے بغیر مشکل ہوگا۔ حکومت نے انکم ٹیکس قواعد میں ترمیم کی تجویز دے دی ہے اور اس پر اعتراضات جمع کروانے کے لیے سات دن کا وقت دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION