01:03 , 12 مارچ 2026
Watch Live

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاشی فریم ورک پر اتفاق رائے قریب

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاشی فریم ورک پر اتفاق رائے قریب

اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور پاکستان کے درمیان موجودہ مالی سال کے لیے نظرثانی شدہ معاشی اور مالیاتی فریم ورک پر اتفاق رائے ہونے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ حکام کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان اہم مالیاتی اہداف اور اصلاحات پر بات چیت جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ فریم ورک کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ٹیکس وصولیوں کے ہدف میں کمی کی تجویز زیر غور ہے۔ نئی تجویز کے مطابق جون 2026 تک ٹیکس وصولیوں کا ہدف کم کر کے 13.45 کھرب روپے مقرر کیا جا سکتا ہے۔

یہ پیش رفت پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ یہ پروگرام ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (EFF) کے تحت جاری ہے جس کا مقصد ملک کی معاشی صورتحال کو مستحکم کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان اسٹاف لیول معاہدے تک پہنچنے کے لیے اس وقت ورچوئل مذاکرات جاری ہیں۔ ان مذاکرات میں مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں بہتری اور معاشی اصلاحات کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال ہو رہا ہے۔

آئی ایم ایف کا پاکستان کی معاشی بہتری کا اعتراف

حکام کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کو مالی سال 2025-26 کے لیے مقرر کردہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ ہدف کے مطابق یہ تناسب 11 فیصد ہونا تھا۔

اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران ٹیکس وصولیوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ نظرثانی شدہ ہدف کے مقابلے میں تقریباً 428 ارب روپے کم وصولی ہوئی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر نئے مالیاتی فریم ورک پر اتفاق ہو جاتا ہے تو اس سے پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام کے اگلے مرحلے کے لیے راہ ہموار ہو سکتی ہے اور معاشی پالیسیوں میں مزید اصلاحات کا امکان بھی بڑھ جائے گا۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION