ویب ڈیسک
|
10 مہینے پہلے
صدر ٹرمپ کا متنازع شہریت حکم 28 ریاستوں میں نافذ العمل

امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے متنازع ایگزیکٹو آرڈر کے خلاف قومی سطح کی پابندی ختم کر دی ہے، جس کے بعد یہ حکم 28 ریاستوں میں 27 جولائی 2025 سے نافذالعمل ہوگا۔
اس حکم کے تحت ایسے بچوں کو امریکی شہریت نہیں ملے گی جو غیر قانونی یا عارضی ویزے پر مقیم والدین کے ہاں 19 فروری 2025 کے بعد پیدا ہوں گے۔ اب تک امریکی آئین کی 14ویں ترمیم کے تحت ایسے بچوں کو خودکار شہریت حاصل ہوتی تھی، مگر ٹرمپ انتظامیہ نے اس میں نئی تشریح پیش کی ہے۔
عدالت کے 6-3 کے فیصلے کے بعد ٹیکساس، فلوریڈا، اوہائیو، انڈیانا، اور جورجیا سمیت 28 ریاستوں میں اس قانون پر عمل درآمد ممکن ہو گیا ہے، جبکہ کیلیفورنیا، نیویارک، واشنگٹن ڈی سی اور دیگر 22 ریاستوں میں عدالتوں کے حکم امتناعی کے باعث اس پر عملدرآمد فی الحال ممکن نہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ نے اس فیصلے کی آئینی حیثیت پر براہِ راست رائے نہیں دی، تاہم اسے وفاقی عدالتوں کو قومی سطح پر پابندیاں لگانے سے روکنے کا اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ کئی ریاستوں میں یہ حکم چیلنج کرنے کے لیے نئے مقدمات دائر کیے جا چکے ہیں۔
ادھر ٹرمپ نے فیصلے کو "قانون کی حکمرانی” اور "صدارتی اختیارات” کی فتح قرار دیا ہے، جبکہ ناقدین کے مطابق یہ اقدام امریکا میں شہریت کی تعریف کو ریاستی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی خطرناک سمت میں پہلا قدم ہے۔
امیگرنٹ ریسورس سینٹر کے مطابق، اس فیصلے سے ہر سال 1.5 لاکھ سے زائد بچے متاثر ہو سکتے ہیں، جنہیں مستقبل میں تعلیم، صحت اور ملازمت جیسی سہولیات تک رسائی میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
یہ معاملہ اکتوبر 2025 میں سپریم کورٹ کے آئندہ سیشن میں دوبارہ زیرِ بحث آ سکتا ہے، جہاں اس ایگزیکٹو آرڈر کی آئینی حیثیت کا حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

















