بھارتی عدالت نے معروف کشمیری رہنما آسیہ اندرابی کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ فیصلہ آزاد حریت پسند رہنماؤں کے خلاف بھارتی حکومت کی جاری کارروائیوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ منتظمین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اسے سیاسی انتقام قرار دے رہی ہیں۔
عدالت نے آسیہ اندرابی کے ساتھیوں، ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی کو بھی 30 برس قید کی سزائیں دی ہیں۔ آسیہ اندرابی 1987 میں کشمیری خواتین کی حقوق کی تنظیم دختران ملت کی بانی ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کشمیری خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کی۔
آسیہ اندرابی نے بھارتی قابض حکومت کے خلاف احتجاج کیا اور خواتین کے خلاف جنسی استحصال کے خلاف آواز بلند کی۔ انہوں نے متنازع انتخابات اور بھارتی قبضے کے خلاف ہر ممکن مزاحمت کی حمایت کی۔ ان کے اقدامات کشمیری آزادی پسند تحریک کا حصہ ہیں۔
یہ سزائیں مودی حکومت کے سیاسی انتقامی اقدامات کے طور پر دیکھی جا رہی ہیں۔ مقامی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے ماہرین نے اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔ آسیہ اندرابی کے شوہر محمد قاسم فکتو بھی 25 سال سے زائد عرصے سے قید میں ہیں۔
آخر میں، مقبوضہ کشمیر کی رہنما آسیہ اندرابی کو عمر قید کی سزا کشمیری آزادی پسندوں کے خلاف بھارتی انتقام کو واضح کرتی ہے۔ مقامی حکومت اور انسانی حقوق کے ادارے اس کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں اور مزید احتجاج کا عندیہ دے رہے ہیں۔