ایرانی صدر کا امریکی عوام کے نام پیغام، دشمنی کی تردید

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکی عوام کے نام ایک خط میں کہا ہے کہ ایران کو عام امریکی شہریوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق صدر نے اپنے پیغام میں ایران کو خطرہ قرار دینے کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر نہ تو تاریخی حقائق سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ ہی موجودہ حالات سے۔
انہوں نے اپنے خط میں کہا کہ ایران ایک قدیم اور مضبوط ملک ہونے کے باوجود اپنی جدید تاریخ میں کبھی جارحیت، توسیع پسندی یا تسلط کی راہ پر نہیں چلا بلکہ صرف اپنے دفاع میں کارروائی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے ہمیشہ حملہ آوروں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔
صدر پزشکیان نے حکومتوں اور عوام کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام دیگر اقوام، خصوصاً امریکہ، یورپ اور پڑوسی ممالک کے شہریوں کے خلاف کوئی بغض نہیں رکھتے۔ انہوں نے اسے ایرانی ثقافت اور اجتماعی شعور کا مستقل حصہ قرار دیا، نہ کہ عارضی سیاسی موقف۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو خطرہ قرار دینا دراصل طاقتور ممالک کی سیاسی اور معاشی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے دباؤ برقرار رکھا جاتا ہے، فوجی بالادستی قائم رکھی جاتی ہے اور عالمی منڈیوں پر کنٹرول حاصل کیا جاتا ہے۔
ایرانی صدر نے خطے میں امریکی فوجی موجودگی کو اصل خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی دفاعی صلاحیتیں صرف اپنے تحفظ کے لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ امریکی اقدامات نے اس خطرے کو مزید واضح کیا ہے، جس کے پیش نظر کسی بھی ملک کے لیے اپنی دفاعی طاقت بڑھانا فطری عمل ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کی تمام کارروائیاں خود دفاع کے اصول کے تحت ہیں اور اس کا مقصد ہرگز جنگ کا آغاز کرنا نہیں۔
امریکا اور اسرائیل کے دباؤ کے سامنے سرنڈر نہیں کریں گے، ایرانی صدر کا اعلان













