12:55 , 12 مارچ 2026
Watch Live

پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں تلخ جملوں کا تبادلہ

پاکستان تحریک انصاف کے مشترکہ اجلاس کی اندرونی تفصیلات سامنے آگئی ہیں جہاں ارکان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں تلخ کلامی اس وقت سامنے آئی جب چند ارکان کے درمیان الزامات اور اعتراضات پر بحث شروع ہوگئی، جس سے اجلاس کا ماحول کچھ دیر کے لیے کشیدہ ہوگیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران شاہد خٹک اور سینیٹر زرقا کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ شاہد خٹک نے الزام لگایا کہ سینیٹر زرقا نے پیسے لیے ہیں اور سوال کیا کہ وہ اجلاس میں کیوں بیٹھی ہیں۔ اس بیان کے بعد اجلاس میں موجود دیگر ارکان بھی اس معاملے پر بول پڑے۔

بتایا گیا ہے کہ شاہد خٹک کے اس الزام پر بیرسٹر علی ظفر ناراض ہوگئے اور کہا کہ اگر پارٹی کے ارکان کی بے توقیری کی گئی تو وہ اجلاس کا بائیکاٹ کردیں گے۔ کئی ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹرز نے بھی شاہد خٹک کے بیان پر تنقید کی اور کہا کہ وہ حدود سے تجاوز کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اڈیالہ جیل میں 30 منٹ کی ملاقات

سینیٹر زرقا نے اپنے مؤقف میں کہا کہ انہیں پارٹی کی طرف سے نوٹس ملا تھا جس کا انہوں نے جواب بھی دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پارٹی قیادت مطمئن نہ ہوتی تو انہیں پارٹی سے نکال دیا جاتا۔ اس دوران بیرسٹر گوہر علی نے کہا کہ ایک طرف ایران کی جنگ جاری ہے اور دوسری طرف یہاں اندرونی اختلافات چل رہے ہیں۔

اجلاس کے اختتام پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت پر تشویش ہے اور تقریباً 100 ارکان نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں تلخ کلامی ہوئی لیکن یہ کوئی سنجیدہ معاملہ نہیں اور ایسے اختلافات کبھی کبھار ہو جاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION