نازیہ حسن کی والدہ منیزہ بصیرانتقال کرگئیں

پاکستان کی مقبول ترین پاپ گلوکارہ نازیہ حسن اور ان کے بھائی زوہیب حسن کی والدہ منیزہ بصیر انتقال کر گئی ہیں۔ اس افسوسناک خبر کی اطلاع زوہیب حسن نے سوشل میڈیا پر دی۔
انسٹاگرام پر زوہیب حسن نے والدہ کے ہمراہ تصاویر پر مشتمل ایک ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’’میری ماں، میری محبت اور میری رہنما انتقال کر گئیں‘‘۔ تاہم انہوں نے والدہ کی تدفین سے متعلق مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
منیزہ بصیر کافی عرصے سے علیل تھیں اور ڈیمنشیا کے مرض میں مبتلا تھیں۔ ان کی دیکھ بھال کے لیے زوہیب حسن چند برس قبل بیرون ملک سے پاکستان واپس آ گئے تھے۔ ان کے والد بصیر حسن مئی 2020 میں انتقال کر گئے تھے جبکہ نازیہ حسن 2000 میں کینسر کے باعث چل بسیں۔
نازیہ حسن کو برصغیر میں پاپ موسیقی کی بانی اور پاکستان کی پاپ شہزادی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کم عمری میں غیر معمولی شہرت حاصل کی اور لاکھوں دلوں پر راج کیا۔
3 اپریل 1965 کو کراچی میں پیدا ہونے والی نازیہ حسن کا پہلا البم ڈسکو دیوانے 1981 میں ریلیز ہوا، جس نے ریلیز ہوتے ہی دھوم مچا دی اور ان کی شہرت آسمان کو چھونے لگی۔
ٹائم میگزین نے انہیں ان 50 بااثر شخصیات میں شامل کیا تھا جنہوں نے اس وقت کی نوجوان نسل کے مزاج پر گہرا اثر ڈالا۔ بھائی زوہیب حسن کے ساتھ مل کر انہوں نے بوم بوم (1982)، ینگ ترنگ (1986)، ہاٹ لائن (1987) اور کیمرا کیمرا (1992) ریلیز کیے۔ دونوں بہن بھائیوں کے گانے طویل عرصے تک مداحوں کی زبان پر رہے۔
















