09:28 , 23 اپریل 2026
Watch Live

معروف شاعر اعتبار ساجد انتقال کر گئے، اردو ادب ایک اہم آواز سے محروم

معروف شاعر اعتبار ساجد انتقال کر گئے

اردو ادب کے ممتاز شاعر اعتبار ساجد لاہور میں انتقال کر گئے ہیں۔ ان کے انتقال سے ادبی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی فضا پائی جاتی ہے، جبکہ شاعری سے محبت رکھنے والے قارئین ایک توانا اور حساس آواز سے محروم ہو گئے ہیں۔

اعتبار ساجد یکم جولائی 1948 کو ملتان میں پیدا ہوئے۔ وہ طویل عرصے سے گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے اور آج صبح 77 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

اعتبار ساجد کا شمار اردو کے مقبول اور منفرد غزل گو شعرا میں ہوتا تھا۔ ان کی شاعری میں رومان، ہجر و وصال اور انسانی جذبات کی گہری عکاسی ملتی ہے، جس نے انہیں قارئین میں خاص مقام دلایا۔

انہوں نے ایم اے تک تعلیم حاصل کی اور تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔ اپنے تدریسی کیریئر کا آغاز گورنمنٹ کالج نوشکی، بلوچستان سے کیا، بعد ازاں اسلام آباد میں بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔

شاعری کے ساتھ ساتھ اعتبار ساجد نے نثر میں بھی طبع آزمائی کی۔ ان کی معروف شعری تصانیف میں دستک بند کواڑوں پر، آمد، وہی ایک زخم گلاب سا، مجھے کوئی شام ادھار دو شامل ہیں۔

انہوں نے بچوں کے لیے بھی ادب تخلیق کیا، جن میں راجو کی سرگزشت، آدم پور کا راجا، پھول سی اک شہزادی اور مٹی کی اشرفیاں جیسے مقبول عنوانات شامل ہیں۔

اعتبار ساجد کا یہ شعر ان کی فکری پہچان بن گیا:
“مری زبان و قلم میں کوئی تضاد نہیں
میں اپنے عصر کی سچائیوں کا شاعر ہوں”

ان کی ادبی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION