سپریم کورٹ نے جیکولین فرنینڈس کی درخواست مسترد کر دی

نئی دہلی: بالی وڈ اداکارہ جیکولین فرنینڈس کو 200 کروڑ روپے کے منی لانڈرنگ کیس میں بڑی قانونی جھٹکا لگا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے ان کی جانب سے کیس ختم کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
اداکارہ نے اس سے قبل دہلی ہائیکورٹ سے بھی ریلیف مانگا تھا، تاہم وہاں سے ان کی درخواست رد کر دی گئی تھی۔ ہائیکورٹ کا مؤقف تھا کہ یہ فیصلہ صرف ٹرائل کورٹ ہی کر سکتی ہے کہ جیکولین نے جرم کیا ہے یا نہیں۔
215 کروڑ روپے کے اس کیس میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے جیکولین کے خلاف کارروائی شروع کی تھی، جس کا تعلق مبینہ دھوکا دہی اور فراڈ کے ملزم سکیش چندر شیکھر سے جوڑا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کے بینچ نے سماعت کے دوران یہ واضح کیا کہ اگرچہ اس مرحلے پر کیس ختم نہیں کیا جا سکتا، لیکن اداکارہ مقدمے کی کارروائی کے مناسب موقع پر دوبارہ عدالت سے رجوع کر سکتی ہیں۔
ای ڈی کے مطابق جیکولین فرنینڈس نے ابتدائی طور پر سکیش چندر شیکھر کے ساتھ اپنے مالی تعلقات کو چھپایا اور صرف ثبوت سامنے آنے پر ان کا انکشاف کیا۔
واضح رہے کہ اگست 2022 میں دہلی پولیس کے پاس سکیش چندر شیکھر کے خلاف بھتہ خوری اور دھوکا دہی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس کے بعد یہ منی لانڈرنگ کیس سامنے آیا۔
















