02:40 , 30 اگست 2025
Watch Live

جاگنے کے بعد ہم اپنے خواب کیوں بھول جاتے ہیں؟

جاگنے کے بعد ہم اپنے خواب کیوں بھول جاتے ہیں؟
اکثر لوگ خواب دیکھنے کے باوجود جاگنے کے بعد انہیں بھول جاتے ہیں۔ یہ ایک عام بات ہے جو تقریباً ہر کسی کے ساتھ ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ دماغ کا کام کرنے کا مخصوص انداز ہے۔ خواب عام طور پر نیند کی "ریپڈ آئی موومنٹ” یعنی آر ای ایم (REM) اسٹیج میں دیکھے جاتے ہیں۔ مگر جیسے ہی ہم جاگتے ہیں، دماغ فوری طور پر مختصر یادداشت سے طویل مدتی یادداشت کی طرف منتقل ہونا شروع کر دیتا ہے۔

 

اسی منتقلی کے دوران اکثر خواب دماغ سے نکل جاتے ہیں۔ اگر جاگنے کا عمل اچانک ہو، جیسے الارم بجنے یا شور کی آواز سے، تو دماغ کو خواب کو محفوظ کرنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ اس جلد بازی کی وجہ سے دماغ خواب کو مکمل طور پر محفوظ نہیں کر پاتا، اور وہ یادداشت سے مٹ جاتا ہے۔

نیند کے دوران دماغ میں کچھ اہم کیمیکل جیسے سیروٹونن اور نورایپی نیفرین کی سطح کم ہو جاتی ہے۔ یہ کیمیکل یادداشت کو محفوظ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ چونکہ یہ کیمیکل کم ہوتے ہیں، اس لیے دماغ کو خواب محفوظ رکھنے میں دشواری پیش آتی ہے۔

علاوہ ازیں، دماغ صرف انہی چیزوں کو محفوظ کرتا ہے جنہیں وہ اہم سمجھتا ہے۔ خواب اکثر غیر منطقی، عجیب و غریب اور بے ترتیب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دماغ انہیں "غیر ضروری” سمجھ کر نظرانداز کر دیتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کچھ خواب جو ہمیں بہت واضح اور دلچسپ لگتے ہیں، جاگنے کے فوراً بعد ذہن سے محو ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم جاگنے کے بعد فوراً ان کے بارے میں سوچیں یا لکھ لیں، تو انہیں یاد رکھنا ممکن ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION