بانجھ پن کا الزام خواتین پر، مرد ٹیسٹ کرانے سے کتراتے ہیں: پروین اکبر

سینئر اداکارہ پروین اکبر نے کہا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں بانجھ پن کا الزام زیادہ تر خواتین پر عائد کیا جاتا ہے، جبکہ مرد اپنی جانچ تک کروانے سے گریز کرتے ہیں۔
انہوں نے حال ہی میں مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وقت کے ساتھ کچھ بہتری آئی ہے، لیکن اب بھی بانجھ خواتین کو سماجی طور پر تنقید کا سامنا رہتا ہے۔ ان کے مطابق شادی بیاہ کی رسومات میں بھی بے اولاد خواتین کو آگے نہیں کیا جاتا اور ان کی موجودگی معیوب سمجھی جاتی ہے۔
اداکارہ نے بتایا کہ ماضی کے مقابلے میں آج نئے شادی شدہ جوڑوں پر فوری اولاد کے طعنے کچھ کم ہو گئے ہیں، مگر یہ روایت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اب نوجوان لڑکیاں شادی کے فوراً بعد بچے پیدا کرنے کے بجائے اپنی زندگی کے دوسرے پہلوؤں کو ترجیح دیتی ہیں، جبکہ بدلتی ہوئی طرزِ زندگی اور غیر صحت مند کھانے ان کی تولیدی صحت پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
پروین اکبر کے مطابق مرد نہ صرف بانجھ پن کے ٹیسٹ سے کتراتے ہیں بلکہ نشہ آور عادات کے باوجود اپنی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی عورت کو بانجھ پن کا سامنا ہو تو اس پر معاشرہ انگلی اٹھاتا ہے، لیکن اگر مرد میں مسئلہ نکل آئے تو خواتین اکثر خاموشی سے زندگی گزار دیتی ہیں۔


















