06:40 , 24 اپریل 2026
Watch Live

نورا فتیحی اور پاکستانی آئٹم سانگ پر یاسر حسین کا دلچسپ تبصرہ

کراچی: اداکار و ہدایتکار یاسر حسین نے پاکستانی فلم انڈسٹری پر عائد پابندیوں اور ثقافتی تضادات پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہمارا اصل کلچر ہے کیا — 70 کی دہائی سے پہلے والا یا بعد کا؟

حال ہی میں ایک انٹرویو میں یاسر حسین نے کہا کہ ماضی میں میڈم نور جہاں جیسے لیجنڈز نے بھی باوقار انداز میں آئٹم سانگز کیے، جو اُس وقت کا حصہ تھے۔ "اگر وہ کلچر تھا تو اب کیوں قابلِ قبول نہیں؟ کیا ہم پیچھے جا رہے ہیں یا تضادات میں جی رہے ہیں؟”

"سچ دکھانے پر پابندی کیوں؟”

یاسر حسین نے بلوچستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ وہاں ہو رہا ہے، وہ وہاں کے عوام کے لیے حقیقت ہے، مگر جب وہی حقیقت فلم کے ذریعے دکھائی جاتی ہے تو روک دیا جاتا ہے۔ "ہم کس دور میں ہیں کہ سچائی چھپانا چاہتے ہیں؟”

انہوں نے اپنی متنازع فلم جاوید اقبال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری حقیقت ہے، لیکن ہم اس پر فلم نہیں بنا سکتے۔ اگر یہ امریکا ہوتا تو اس پر نیٹ فلکس سیریز بنتی، جیسے جیفری ڈاہمر پر بنی۔

یاسر حسین نے پاکستانی فلموں میں شامل آئٹم نمبرز پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر آئٹم نمبر شامل کرنا ہے تو وہ عالمی معیار کا ہونا چاہیے، ورنہ چھوڑ دینا بہتر ہے۔ "اگر نورا فتیحی کا آئٹم نمبر دیکھتا ہوں تو پاکستانی فلم کا آئٹم نمبر متاثر نہیں کرتا۔ آدھی پابندیاں اور آدھا رقص — یہ نہیں چلے گا۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION