امریکا کے سابق وائٹ ہاؤس توانائی مشیر باب مکنیلی نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ طویل بندش عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس مسئلے کا کوئی واضح اور مؤثر حل موجود نہیں، جس کی وجہ سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، اور آبنائے ہرمز بندش کا پالیسی حل ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
ایک انٹرویو میں باب مکنیلی نے کہا کہ فوجی نگرانی بڑھانا، اسٹریٹجک تیل ذخائر کا استعمال یا گیس ٹیکس میں کمی جیسے اقدامات صرف عارضی نوعیت کے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدامات وقتی ریلیف تو دے سکتے ہیں مگر مسئلے کو مکمل طور پر حل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود آپشنز موجود ہیں۔ ان کے بقول زیادہ تر اقدامات یا تو علامتی ہیں یا مؤثر ثابت نہیں ہوں گے، جبکہ کچھ فیصلے الٹا نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی وزیر خارجہ: اعلیٰ رہنماؤں کی شہادت سے نظام متاثر نہیں ہوتا
باب مکنیلی کا کہنا تھا کہ اصل اور دیرپا حل یہی ہے کہ آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل مکمل طور پر بحال کی جائے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر امریکا فوری طور پر جنگ ختم کرنے کا اعلان بھی کر دے تو اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ ایران آبنائے ہرمز کو کھول دے گا۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ اگر ایران مسلسل یہ ظاہر کرتا رہے کہ وہ جب چاہے جہازوں کو نشانہ بنا سکتا ہے تو عالمی بحری آمدورفت متاثر ہو سکتی ہے۔ ایسی صورتحال میں واضح ہے کہ آبنائے ہرمز بندش کا پالیسی حل اب بھی دستیاب نہیں اور یہ مسئلہ عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔