امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط جنگ 22 ویں روز میں داخل ہو گئی ہے۔ مسلسل فضائی حملے، اہم ایرانی تنصیبات پر بمباری اور اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کے باوجود دشمن اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یہ صورتحال عالمی سطح پر ایران کے خلاف جاری کشیدگی اور فوجی دباؤ کو اجاگر کرتی ہے، جسے امریکہ-اسرائیل کی جنگ ایران 2026 کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کئی دنوں کی غیر موجودگی کے بعد میڈیا کے سامنے آئے اور کہا کہ ایران میں کامیابی کے لیے زمینی فوج اتارنا ضروری ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ایران کی میزائل سازی اور یورینیم افزودگی کی صلاحیت کو نقصان پہنچایا گیا، لیکن حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے زمینی کارروائی ناگزیر ہے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ زمینی آپریشن کے لیے مختلف اختیارات پر غور کیا جا رہا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ فضائی حملے اکیلے کافی نہیں ہیں۔ طویل عرصے سے جاری کارروائی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ صرف ہوائی حملوں سے اسٹریٹجک مقاصد حاصل کرنا مشکل ہے۔
یہ بھی پڑھیں سپریم لیڈر ایران کا پیغام: برادر ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات ضروری ہیں
دوسری طرف، امریکہ مشرق وسطیٰ میں اضافی فوجی تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ چار ہزار امریکی میرین اور سیلرز کے ساتھ یو ایس ایس باکسر سمیت کئی جنگی جہاز بھیجے جا رہے ہیں، جس سے خطے میں فوجی موجودگی اور تیاری بڑھ گئی ہے۔
امریکی فورسز کی تعیناتی سے ایران پر ممکنہ زمینی حملے کی قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں۔ مجموعی طور پر، امریکہ-اسرائیل کی جنگ ایران 2026 شدت اختیار کرتی جا رہی ہے اور خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ دونوں ممالک اپنی فوجی کارروائیوں کے دائرہ کار کو وسیع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔