08:54 , 21 اپریل 2026
Watch Live

طالبان رجیم میں خواتین سمیت ایک ہزار سے زائد کو کوڑے مارے گئے

طالبان رجیم

افغانستان میں طالبان رجیم کے تحت گزشتہ ایک سال میں خواتین سمیت ایک ہزار سے زائد افراد کو کوڑے مارے گئے۔ مارچ 2025 سے مارچ 2026 کے دوران کم از کم 1,186 افراد کو جسمانی سزائیں دی گئیں جبکہ 6 افراد کو قصاص کے تحت سرعام سزائے موت دی گئی۔

جلا وطن افغان صحافیوں کے مرتب کردہ سرکاری بیانات اور اعداد و شمار کے مطابق جسمانی سزائیں افغانستان کے بیشتر حصوں میں جاری رہیں۔ ان میں سرکاری اور عوامی مقامات پر فلوجنگ سمیت دیگر سخت اقدامات شامل تھے، جو طالبان کی سخت عدالتی پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔

یہ سزائیں کابل، ہرات، بلخ، قندھار، ننگرہار، خوست، بدخشاں، پکتیا، پکتیکا اور فاریاب سمیت درجنوں صوبوں میں دی گئیں۔ عوامی مقامات پر سزائیں دینے کا مقصد خوف پیدا کرنا اور معاشرتی کنٹرول قائم رکھنا بتایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قطر میں فوجی ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار، 6 افراد جاں بحق

طالبان عدالتوں کے بیانات کے مطابق سال کے آخری مہینوں میں جسمانی سزاؤں میں اضافہ ہوا۔ اس دوران تقریباً 100 خواتین کو کوڑے مارے گئے، جس سے انسانی حقوق کے فعال کارکنان نے شدید تشویش کا اظہار کیا اور بنیادی آزادیوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔

آخر میں، طالبان رجیم میں خواتین سمیت ایک ہزار سے زائد کو کوڑے مارے گئے، یہ عمل افغانستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ یہ سزائیں معاشرے میں خوف کی فضا پیدا کرتی ہیں اور بین الاقوامی توجہ کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION