سرکاری فنڈز کو ٹی ایس اے میں شامل کرنے کی یقین دہانی

اسلام آباد میں مالیاتی نظم و ضبط سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وزارت خزانہ نے اعتراف کیا ہے کہ سرکاری اداروں نے تقریباً ایک کھرب روپے کمرشل بینکوں کے کھاتوں میں رکھے ہوئے ہیں۔ اس انکشاف کے بعد پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ مزید 70 سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس کو ٹریژری سنگل اکاؤنٹ (ٹی ایس اے) کے نظام میں شامل کرے گا۔
ذرائع کے مطابق ان 70 اکاؤنٹس میں اوسطاً 290 ارب روپے موجود ہیں، جنہیں مرحلہ وار حکومتی مرکزی نظام میں منتقل کیا جائے گا تاکہ مالیاتی شفافیت اور کنٹرول کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس سے قبل بھی 242 اکاؤنٹس میں تقریباً 200 ارب روپے ٹی ایس اے میں شامل کیے جا چکے ہیں۔
اسلام آباد یونائیٹڈ نے شاندار فتح کے بعد پلے آف میں جگہ بنالی
آئی ایم ایف کی جانب سے اس معاملے پر خاص توجہ دی جا رہی ہے اور پاکستان پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ سرکاری رقوم کو کمرشل بینکوں میں رکھنے کی روایت ختم کرے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنائے گا بلکہ حکومتی اخراجات اور وسائل کی نگرانی بھی مؤثر بنائے گا۔
دوسری جانب پارلیمنٹ کے ارکان نے پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سینیٹر انوشہ رحمان نے سرکاری اداروں کی واضح تعریف نہ ہونے کے مسئلے کو اجاگر کیا، جس پر وزارت خزانہ کے حکام کو سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔
وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف کو یقین دلایا ہے کہ مستقبل میں سرکاری فنڈز کو یکجا کرنے کے لیے قانونی معیار اپنایا جائے گا اور ایسے تمام اداروں کی نشاندہی کی جائے گی جو ٹی ایس اے کے دائرے میں آتے ہیں۔ یہ اقدام پاکستان کے مالیاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔











