امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ

واشنگٹن : وائٹ ہاؤس کرسپونڈنٹس ڈنر کے دوران فائرنگ کے واقعے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر مبینہ قاتلانہ حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے تقریب میں موجود افراد میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
یہ واقعہ واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں پیش آیا جہاں اہم شخصیات، صحافیوں اور حکام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اچانک فائرنگ کی آوازوں نے پورے ہال میں افراتفری پیدا کر دی۔
اطلاعات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کو فوری طور پر سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔ سیکیورٹی اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق مبینہ حملہ آور کو ہلاک کر دیا گیا جبکہ ایک مشکوک شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ تاہم حملے کے محرکات اور مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آسکیں۔
خوش قسمتی سے کسی بھی شریک کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی، لیکن عینی شاہدین کے مطابق لوگ اپنی جان بچانے کے لیے میزوں کے نیچے چھپ گئے تھے۔
اس موقع پر نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سمیت اعلیٰ حکام بھی موجود تھے، جس سے واقعے کی سنگینی مزید واضح ہوتی ہے۔
یاد رہے کہ واشنگٹن ہلٹن ہوٹل وہی مقام ہے جہاں 1981 میں صدر رونالڈ ریگن پر بھی قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔














