شاہن شاہد کی پاکستانی فلم انڈسٹری اور اسٹار کلچر پر کھل کر تنقید

اداکار شان شاہد نے پاکستانی فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کے موجودہ معیار، اسٹار کلچر اور مواد کی تخلیق کے طریقہ کار پر کھل کر تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈسٹری میں بڑے ناموں کے باوجود تخلیقی چیلنجز کم ہوتے جا رہے ہیں اور زیادہ تر اداکار اپنے “کمفرٹ زون” میں کام کر رہے ہیں۔
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے فہد مصطفیٰ اور ہمایوں سعید کے حوالے سے کہا کہ یہ دونوں اپنی فیلڈ میں کامیاب ضرور ہیں، لیکن وہ نئے تجربات یا مختلف کرداروں کی طرف کم ہی جاتے ہیں۔ ان کے مطابق انڈسٹری میں کچھ لوگ اپنے اپنے “علاقوں” میں محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔
شان شاہد نے کہا کہ پاکستانی فلم انڈسٹری میں بجٹ تو بڑھ گئے ہیں لیکن سوچ اور تخلیقی معیار میں اضافہ نہیں ہوا۔ ان کے مطابق آج فلمیں آرٹ کے بجائے نمبروں اور بزنس کے گرد گھوم رہی ہیں، جبکہ اصل توجہ مواد اور کہانی پر ہونی چاہیے۔
امریکی سینیٹ کا ٹرمپ کی ممکنہ کیوبا کارروائی روکنے کے لیے ووٹ کا امکان
انہوں نے پنجابی سنیما کو نسبتاً بہتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کم بجٹ کے باوجود ناظرین اچھی فلم کو آج بھی پسند کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کامیابی کا مطلب صرف کروڑوں کی آمدن نہیں بلکہ مضبوط کہانی اور تخلیقی معیار ہونا چاہیے۔
اداکار نے سوشل میڈیا کلچر پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج کل کامیابی کا معیار لائکس اور ویوز بن چکا ہے، جس کے باعث معیار متاثر ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق اب ایسے لوگ بھی سامنے آ رہے ہیں جو اپنے اصل ہنر سے ہٹ کر کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے انٹرویوز میں نامناسب سوالات اور میڈیا کے رویے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ صحافت اور تفریح کے درمیان واضح حد ہونی چاہیے۔
شان شاہد نے بھارت کے ساتھ کام کرنے کے حوالے سے کہا کہ انہیں ہمیشہ اس پر تحفظات رہے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی فنکاروں کو وہاں وہ مقام نہیں ملتا جو ان کا حق ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ہر فنکار اپنی مرضی سے فیصلے کرنے میں آزاد ہے۔














