سونے کی بڑھتی قیمتوں نے جنوبی ایشیا میں شادیوں کے رجحانات بدل دیے

جنوبی ایشیا میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث شادیوں کے روایتی انداز میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان، بھارت اور بنگلادیش میں سونے کی ریکارڈ بلند قیمتوں نے خاص طور پر متوسط طبقے کے لیے شادیوں کے اخراجات کو کافی حد تک بڑھا دیا ہے۔
سونے کی قیمتوں میں اضافے کے بعد دلہنوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے خالص سونے کے زیورات خریدنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں متبادل رجحانات تیزی سے فروغ پا رہے ہیں۔ اب بڑی تعداد میں دلہنیں نقلی زیورات کو ترجیح دے رہی ہیں، جبکہ ایک گرام گولڈ جیولری بھی نسبتاً سستا اور قابلِ قبول متبادل بن کر سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی صرف معاشی دباؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ سماجی رویوں میں بھی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔ پہلے جہاں سونا شادی کا لازمی حصہ سمجھا جاتا تھا، اب اسے زیادہ تر سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے۔
رپورٹس کے مطابق خطے میں سونے کی خریداری میں واضح کمی دیکھی گئی ہے، جس نے زیورات کی مارکیٹ پر بھی اثر ڈالا ہے۔ جیولری ڈیزائنرز کے مطابق صارفین اب مہنگے اور روایتی زیورات کے بجائے سادہ اور کم قیمت ڈیزائنز کی طرف رجحان ظاہر کر رہے ہیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سونے کی قیمتوں میں اضافہ اسی طرح جاری رہا تو شادیوں کے رجحانات میں یہ تبدیلی مستقل شکل اختیار کر سکتی ہے، جس سے نہ صرف زیورات کی صنعت بلکہ شادیوں کی مجموعی ثقافت بھی متاثر ہوگی۔














