رضا پہلوی کے ایران حملوں پر بیانات سے بحث چھڑ گئی

رضا پہلوی نے حالیہ دنوں میں ایران پر ہونے والے فضائی حملوں میں شہری ہلاکتوں کو “ضمنی نقصان” قرار دے کر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی عروج پر ہے اور حملوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی اطلاعات ہیں۔
ایک انٹرویو کے دوران جب ان سے شہری ہلاکتوں کی شدت اور اس مؤقف کے سیاسی اثرات کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ ایرانی حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار پر اعتماد نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اموات ہوئی ہیں، تاہم ان کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں حکومتی عناصر کی ہیں۔
دوسری جانب آزاد ذرائع اس سے مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق فروری کے آخر سے جنگ بندی تک ہونے والے حملوں میں کم از کم 3,400 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ ہزاروں زخمی بھی ہوئے، جن میں بڑی تعداد عام شہریوں اور بچوں کی ہے۔
ایران ورلڈکپ 2026 میں شامل رہے گا، فیفا نے اٹلی کی شمولیت کی تجویز مسترد کردی
رپورٹس میں ایک افسوسناک واقعے کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس میں ایک اسکول پر حملے کے دوران درجنوں بچے جان کی بازی ہار گئے۔ ایسے واقعات نے عالمی سطح پر انسانی بحران کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کے ماہرین نے رضا پہلوی کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری ہلاکتوں کو “ضمنی نقصان” قرار دینا جنگ کے انسانی پہلو کو کم کرکے دکھانے کے مترادف ہے۔ بعض ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے بیانات ان کی سیاسی ساکھ کو متاثر کر سکتے ہیں۔
خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی توجہ اس تنازع پر مرکوز ہے اور شہریوں کے تحفظ اور جوابدہی کے مطالبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔














