امریکی سینیٹ کا ٹرمپ کی ممکنہ کیوبا کارروائی روکنے کے لیے ووٹ کا امکان

امریکی سینیٹ آئندہ ہفتے کے دوران ایک ایسے بل پر ووٹنگ کر سکتی ہے جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کیوبا پر ممکنہ فوجی کارروائی سے روکنا ہے۔ یہ اقدام ڈیموکریٹک سینیٹرز کی جانب سے پیش کیا گیا ہے، جو صدر کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔
سینیٹرز ٹم کین، ایڈم شِف اور روبن گیلیگو نے گزشتہ ماہ “کیوبا وار پاورز ریزولوشن” پیش کی تھی۔ سینیٹ کے قواعد کے مطابق ریپبلکن قیادت اس بل کو ووٹ کے لیے پیش کرنے کی پابند ہے۔ ذرائع کے مطابق ووٹنگ کا امکان اگلے ہفتے کے دوران ہے، جبکہ اسے یکم مئی سے پہلے مکمل کیے جانے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
ڈیموکریٹک سینیٹر ایڈم شِف نے بل پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر کے بیانات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ان کی اگلی توجہ کیوبا پر ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق امریکی آئین کے تحت جنگ کا اعلان کرنا کانگریس کا اختیار ہے، نہ کہ صدر کا۔
دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کے پمپ بند، کراچی میں پانی کی قلت کا خدشہ
صدر ٹرمپ اس سے قبل وینزویلا اور ایران میں فوجی کارروائیوں کا دفاع کرتے رہے ہیں اور انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ “کیوبا اگلا ہدف ہو سکتا ہے”، تاہم انہوں نے کسی واضح منصوبے کی تفصیل نہیں دی۔ ان کا مؤقف ہے کہ کیوبا کی حکومت کمزور ہو رہی ہے۔
ریپبلکن پارٹی، جو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں معمولی اکثریت رکھتی ہے، اب تک ٹرمپ کی فوجی پالیسیوں کے خلاف ڈیموکریٹس کی تمام کوششوں کو مسترد کرتی رہی ہے۔ اس بات کا بھی امکان کم ہے کہ ریپبلکن اراکین اپنی پوزیشن تبدیل کریں گے۔
امریکی آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کانگریس کا اختیار ہے، لیکن مختصر فوجی کارروائیوں اور ہنگامی حالات میں صدر کو محدود اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر کی کارروائیاں آئینی دائرے میں ہیں۔













