برکس کے نائب وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شدید اختلافات سامنے آئے۔ برکس اجلاس میں نائب وزرائے خارجہ کے درمیان شدید اختلافات نے سفارتی کشیدگی کو نمایاں کر دیا۔ یہ اجلاس نئی دہلی میں منعقد ہوا۔
رپورٹس کے مطابق بھارت نے مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل اور فلسطین کے حوالے سے نرم زبان استعمال کرنے کی کوشش کی۔ تاہم اس تجویز کی زیادہ تر رکن ممالک نے مخالفت کی۔ مزید یہ کہ کئی سفارتکاروں نے اس پر سخت اعتراض کیا۔
اجلاس 23 اور 24 اپریل کو بھارت کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اس دوران متحدہ عرب امارات اور ایران کے نمائندوں کے درمیان بھی حالیہ کشیدگی پر اختلافات سامنے آئے۔ نتیجتاً اجلاس میں بات چیت مزید پیچیدہ ہو گئی۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ سکیورٹی خدشات میں اضافہ، حملے کی نئی کوشش سامنے
سفارتی ذرائع نے بتایا کہ اختلافات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہے۔ مزید برآں مشترکہ اعلامیے کے مسودے پر بھی شدید بحث ہوئی۔ اس وجہ سے اتفاق رائے حاصل کرنا مشکل ہو گیا۔
آخر میں بھارت رواں سال ستمبر میں 18ویں برکس سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ مبصرین کے مطابق یہ اختلافات آئندہ مذاکرات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ یوں برکس اجلاس میں نائب وزرائے خارجہ کے درمیان شدید اختلافات نے تنظیم کے اندر سفارتی چیلنجز کو مزید بڑھا دیا ہے۔