08:42 , 16 مئی 2026
Watch Live

بلوچستان میں لیڈی کانسٹیبل اور شاعر کے قتل کی شدید مذمت، حکومت کا سخت ردعمل

بلوچستان میں لیڈی کانسٹیبل اور شاعر کے قتل

شاہد رند اور بابر یوسفزئی نے بلوچستان میں لیڈی کانسٹیبل اور براہوی زبان کے شاعر پروفیسر محمد خان غمخوار کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔

شاہد رند نے کہا کہ تربت میں لیڈی کانسٹیبل شکیلہ اور نوشکی میں پروفیسر غمخوار حیات کو نشانہ بنانا کھلی بربریت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی فائرنگ سے لیڈی اہلکار کے شوہر اور بیٹے کا زخمی ہونا انتہائی افسوسناک ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں، جبکہ پروفیسر غمخوار حیات پر حملہ بلوچستان کی علمی اور ادبی اقدار پر حملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علم و قلم کے دشمنوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

شاہد رند کے مطابق دہشت گرد اساتذہ، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنا کر خوف پھیلانا چاہتے ہیں، تاہم حکومت اور سکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔

دوسری جانب بابر یوسفزئی نے کہا کہ فتنہ الہندستان اب خواتین، اساتذہ اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے لیڈی کانسٹیبل شکیلہ کو بچوں کے سامنے شہید کیے جانے کو کھلی دہشت گردی قرار دیا۔

بابر یوسفزئی نے کہا کہ دہشت گردوں کو نہ خواتین کے احترام کا خیال ہے اور نہ بچوں کی معصومیت کا، جبکہ بلوچستان کے عوام اور سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ گوادر یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر رزاق صابر اور ڈاکٹر منظور کو بھی اغوا کیا گیا ہے، اور دہشت گرد بلوچستان میں تعلیم کے دروازے بند کرنا چاہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION