ہزاروں اسرائیلیوں کا تل ابیب میں بڑا مظاہرہ، ٹرمپ سے جنگ کے خاتمے اور یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ

ہزاروں اسرائیلی شہریوں نے تل ابیب میں ایک بڑے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی، جس میں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں جاری جنگ کو فوری طور پر ختم کرانے اور یرغمالیوں کی بحفاظت رہائی کو یقینی بنانے کے لیے اقدام کریں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مظاہرہ اسرائیلی فوجی ہیڈکوارٹر کے باہر ہوا، جہاں مظاہرین اسرائیلی جھنڈے اور یرغمال بنائے گئے افراد کی تصاویر والے پلے کارڈز اُٹھائے ہوئے تھے۔
مظاہرین کا ماننا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ واحد عالمی رہنما ہیں جو اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹرمپ نیتن یاہو پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ یرغمالیوں کی رہائی کو اولین ترجیح دیں اور غزہ میں جاری فوجی کارروائیوں میں کمی لائیں۔
وزیرِاعظم نیتن یاہو کی پالیسیوں پر عوامی ناراضی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر ان کے اس فیصلے پر جس کے تحت غزہ شہر پر حملہ کیا گیا جہاں غالباً یرغمال افراد کو رکھا گیا ہے۔ یرغمال افراد کے اہلِ خانہ کو خدشہ ہے کہ یہ فوجی کارروائی ان کے پیاروں کی زندگیوں کو شدید خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
دوسری جانب، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے تمام مسلم ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ ہر قسم کے سفارتی اور اقتصادی تعلقات ختم کر دیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
















