بحیرہ ایجیئن میں تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 18 ہلاک اور 21 زندہ بچا لیے گئے

بحیرہ ایجیئن میں ترکی اور یونان کے درمیان ایک تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے واقعے میں کم از کم 18 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 21 افراد کو زندہ بچا لیا گیا۔
ترک کوسٹ گارڈ کے مطابق واقعہ ایک ربڑ کی کشتی میں سوار غیرقانونی تارکین وطن کے ساتھ پیش آیا، جو خطرناک سمندری راستے سے سفر کر رہے تھے۔
کوسٹ گارڈ نے بتایا کہ فوری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے دوران 21 افراد کو بچایا گیا جبکہ ہلاک شدگان کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔
مشرقی بحیرۂ روم میں کشیدگی: ترکی نے شمالی قبرص میں فوجی تعینات کر دیے
ترک حکام نے کہا کہ کشتی میں سوار افراد کی تعداد اور ان کی اصل شناخت کی تصدیق کی جا رہی ہے۔
یہ واقعہ اس خطے میں مہاجرین کی خطرناک سمندری مہمات کا تازہ ثبوت ہے، جہاں غیرقانونی راستوں سے ہزاروں لوگ یورپی ممالک تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر محفوظ کشتیوں اور سمندری حالات کی وجہ سے یہ حادثات معمول بن چکے ہیں اور انسانی جانوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
















