اسلام مخالف گینگ کے کارندے فلسطینی امدادی مراکز پر مامور

ایک چونکا دینے والی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ غزہ میں خوراک تقسیم کرنے والے مراکز کی سیکیورٹی ایک اسلام مخالف بائیکر گینگ کے حوالے کردی گئی ہے۔ بی بی سی کی تحقیقات کے مطابق ایک امریکی کمپنی نے اس گینگ کے کارندوں کو ان امدادی مراکز پر تعینات کیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکا اور اسرائیل کی سرپرستی میں کام کرنے والی غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن نے اپنے خوراک کی تقسیم کے مراکز پر ’’انفیڈلز ایم سی‘‘ نامی گینگ کے ارکان کو مامور کردیا ہے۔ یہ گینگ مسلم دشمن نظریات رکھتا ہے اور اس کے 10 سے زائد افراد کو امریکی کمپنی یو جی سلوشنز نے بھرتی کیا ہے۔
ان میں سے کم از کم سات افراد کو ان مراکز میں اعلیٰ عہدے دیے گئے ہیں۔ گینگ کا سربراہ جونی ’’ٹیز‘‘ مَلفورڈ یو جی سلوشنز میں کنٹری ٹیم لیڈر کے طور پر کام کر رہا ہے اور اسی نے دیگر ارکان کو بھی بھرتی کیا۔
ملفورڈ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کے سینے پر ’’1095‘‘ کا ٹیٹو بنا ہوا ہے، یہ وہی سال ہے جب پوپ اربن دوم نے پہلی صلیبی جنگ کا آغاز کیا تھا۔ اس حوالے نے فلسطینی عوام کے لیے امداد لینے کے عمل کو مزید خطرناک اور مشکوک بنا دیا ہے۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ ان مراکز پر خوراک لینے آنے والے فلسطینیوں پر ماضی میں کئی بار فائرنگ کی جا چکی ہے۔ اقوام متحدہ سمیت عالمی ادارے ان مراکز پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں اور انہیں امریکا اور اسرائیل کی سرپرستی میں فلسطینیوں کو قتل کرنے کے لیے بچھایا گیا جال قرار دے چکے ہیں۔
















