چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ 28 ویں آئینی ترمیم سے متعلق ابھی تک کوئی بات نہیں ہوئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر نہ آئینی ترمیم پاس ہوسکتی ہے اور نہ ہی بجٹ منظور کیا جاسکتا ہے۔ مزید برآں انہوں نے حکومت کو عوامی ریلیف پر توجہ دینے کا مشورہ دیا۔
اسلام آباد میں بلاول بھٹو زرداری کی زیرصدارت پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس کے دوران بجٹ مذاکرات کیلئے چار رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس کمیٹی میں راجہ پرویز اشرف، سلیم مانڈوی والا، شیری رحمان اور نوید قمر شامل ہیں۔ نتیجتاً آئندہ بجٹ پر حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان اہم مذاکرات متوقع ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی کے بعد وزیراعظم نے انہیں امن کمیٹی کی سربراہی سونپی تھی۔ ان کے مطابق انہوں نے بین الاقوامی میڈیا پر بھارت کے بیانیے کا مؤثر جواب دیا۔ علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ امریکا، ایران جنگ اور مذاکرات کے معاملے پر انہیں کسی قسم کی پیشکش نہیں کی گئی۔
بلاول نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور یہ ہمیشہ قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر بنائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ایران کے ساتھ آزادانہ اور مثبت تعلقات ہیں۔ مزید یہ کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: شاہراہ بھٹو رواں ماہ کھول دی جائے گی، شرجیل انعام میمن
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم میں صوبوں کے حقوق کے تحفظ میں ان کی جماعت نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ اور آئینی عدالت میں تمام صوبوں کی نمائندگی بھی پیپلز پارٹی کی کوششوں سے ممکن ہوئی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ 28 ویں ترمیم کے بارے میں ابھی کوئی باضابطہ بات سامنے نہیں آئی۔
بلاول بھٹو زرداری نے مہنگائی اور معاشی مشکلات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہیں اور آنے والے بجٹ میں مزید مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ بلاول کا حکومت کو دوٹوک پیغام، پیپلزپارٹی کی حمایت ناگزیر قرار ملکی سیاست اور بجٹ مذاکرات میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔