06:28 , 22 اپریل 2026
Watch Live

بھارت نے امریکا کے لیے ڈاک سروس معطل کر دی

ڈاک سروس معطل
بھارت نے امریکا کے لیے پوسٹل سروس معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ 25 اگست سے نافذ کر دیا گیا ہے۔ وزارت مواصلات کے تحت محکمہ ڈاک نے ہفتے کے روز اس اقدام کی تصدیق کی۔

 

اعلان کے مطابق صرف خطوط، دستاویزات اور 100 ڈالر مالیت تک کے تحائف بھیجے جا سکیں گے۔ دیگر تمام ڈاکی سامان کی بکنگ روک دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم عملی مشکلات کے باعث اٹھایا گیا ہے۔

محکمہ ڈاک نے وضاحت کی کہ یہ فیصلہ امریکا کے نئے قوانین کے براہِ راست نتیجے میں سامنے آیا ہے۔ یہ قوانین "انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ” کے تحت نافذ کیے جا رہے ہیں۔ ان پر عمل درآمد اسی ماہ کے آخر سے ہوگا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی اشیا پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ روسی تیل کی خریداری پر بھی 25 فیصد اضافی جرمانہ لگایا گیا ہے۔

ان اقدامات کے نتیجے میں بھارت پر مجموعی ٹیرف بوجھ 50 فیصد تک بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید تناؤ کا شکار کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پوسٹل سروس کی معطلی اس کشیدگی کی سنگین علامت ہے۔

امریکا کے نئے ایکزیکٹو آرڈر کے تحت اب بین الاقوامی ڈاک لانے والے تمام ٹرانسپورٹ کیریئرز پر لازم ہوگا کہ وہ کسٹمز ڈیوٹی وصول کریں۔ یہ قاعدہ امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے تحت منظور شدہ تمام اداروں پر بھی لاگو ہوگا۔ مبصرین کے مطابق اس سے تجارتی سرگرمیوں کے ساتھ عوامی روابط بھی متاثر ہوں گے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION