ایران نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکی پیغامات موصول ہونے کی تصدیق کردی، جس سے بالواسطہ سفارتی رابطوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ترجمان وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ پیغامات پاکستان سمیت دیگر ثالثوں کے ذریعے موصول ہوئے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی پالیسی پر قائم ہے اور تمام رابطے صرف ثالثوں کے ذریعے جاری ہیں۔ اس طرح دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے باوجود محدود سفارتی رابطہ برقرار ہے۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق سینئر ایرانی حکام نے بتایا کہ ثالثوں نے منگل کو ایران سے رابطہ کیا۔ اس دوران سفارتکاری جاری رکھنے پر بات چیت ہوئی۔ تاہم عارضی جنگ بندی کے حوالے سے کوئی باضابطہ پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
مزید پڑھیں: ایرانی مسلح افواج کا سخت انتباہ، حملہ آوروں کے پاؤں کاٹے جائیں گے
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستانی ثالثوں سے ایران کے معاملے پر بات کی۔ ذرائع کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سخت پیغام بھیجا، جس میں جنگ بندی کے لیے کچھ شرائط رکھی گئیں۔
آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکی پیغامات موصول ہونے کی تصدیق کردی، جو جاری کشیدگی کے باوجود سفارتی رابطوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم براہ راست مذاکرات کی عدم موجودگی کے باعث صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔