اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس محسن اختر کیانی نے تین سالہ خاندانی تنازع ختم کرا دیا

اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک فیملی کیس کی سماعت کے دوران عدالتی تاریخ کا ایک منفرد اور جذباتی منظر دیکھنے میں آیا، جہاں تین سالہ قانونی جنگ کے بعد میاں بیوی میں صلح ہو گئی۔
یہ سماعت جسٹس محسن اختر کیانی کے کمرہ عدالت میں ہوئی، جہاں انہوں نے فریقین کو تفصیل سے سننے کے بعد انہیں دوبارہ اکٹھے رہنے پر قائل کر لیا۔
اسلام آباد کے رہائشی میاں بیوی نے عدالت کے حکم نامے پر اکٹھے رہنے کی رضامندی کے دستخط کیے۔ عدالت نے خاوند کو ہدایت دی کہ بیوی کو الگ اور مناسب رہائش فراہم کی جائے گی۔
سماعت کے دوران چاروں بچوں کو عدالت میں پیش کیا گیا اور والدین سے ملاقات کروائی گئی۔ بچوں کو روسٹرم پر بلا کر جسٹس محسن اختر کیانی نے انٹرویو کیا، جس پر بچوں نے کہا: “ماما آپ گھر آ جائیں۔”
جج نے بچوں کو تحائف بھی دیے اور ریمارکس دیے کہ “بچوں کا بٹوارا نہیں ہو سکتا، بچے پراپرٹی نہیں ہوتے۔” انہوں نے کہا کہ مرد کا فرض ہے کہ بیوی کو محبت، احترام اور تحفظ فراہم کرے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے مزید کہا کہ معاشرے میں مردوں کی تربیت کا فقدان ہے، اور عورت جو والدین کا گھر چھوڑ کر آتی ہے، وہ عزت اور محبت کی حق دار ہوتی ہے۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ اس کیس میں اصل مسئلہ میاں بیوی سے زیادہ خاندان کا لگتا ہے۔
سماعت کے دوران بچوں کی ویڈیو بنانے والے ایک شخص سے موبائل فون لے لیا گیا۔ عدالت نے وضاحت طلب کی، جس پر اس شخص نے بتایا کہ وہ گھر والوں کو دکھانا چاہتا تھا۔ عدالت نے اعلان کیا کہ اس کیس میں جلد تحریری حکم نامہ جاری کیا جائے گا۔ یہ واقعہ اسلام آباد میں عدالتی تاریخ کا ایک یادگار لمحہ بن گیا۔











