ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر نامزد کر دیا گیا ہے۔ اس اعلان کے بعد عالمی سطح پر اس خبر پر توجہ دی جا رہی ہے اور مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر بننے کا معاملہ اہم سیاسی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی مجلس خبرگان نے قوم سے اپیل کی ہے کہ موجودہ حالات میں اتحاد اور یکجہتی کو برقرار رکھا جائے۔ مجلس خبرگان نے عوام سے نئے سپریم لیڈر کے ساتھ وفاداری کا عہد کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔
ذرائع کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے کبھی کسی سرکاری عہدے کے لیے الیکشن نہیں لڑا اور نہ ہی وہ عوامی ووٹ کے ذریعے منتخب ہوئے ہیں۔ تاہم وہ کئی دہائیوں سے سپریم لیڈر کے قریبی حلقے میں ایک بااثر شخصیت سمجھے جاتے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران جنگ کے بعد خلیجی معیشت متاثر، اماراتی کاروباری حلقوں کی امریکا پر تنقید
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای کے پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود انہوں نے جانشینی کے معاملے پر کبھی کھل کر بات نہیں کی۔
دوسری جانب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے بھی اس معاملے پر ردعمل سامنے آیا ہے۔ بعض بیانات میں نئے ایرانی سپریم لیڈر کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا گیا، جبکہ عالمی سطح پر مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر بننے کی خبر پر بحث جاری ہے۔













