ایران پر جنگ کے اثرات: عالمی تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سنہ 2022 کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں۔
برینٹ کروڈ کی قیمت میں 24 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 114.74 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 27 فیصد بڑھ کر 115.11 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جنگ طویل ہوئی تو تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے، جس سے عالمی معیشت پر شدید دباؤ پڑنے کا امکان ہے۔
آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز بدستور بند ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ جنگ کے آغاز سے وہاں متعدد ٹینکر جمع ہو گئے ہیں، جس سے تیل کی فراہمی میں بڑی رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔
ایران کا 24 گھنٹوں میں 4 امریکی میزائل دفاعی ریڈار تباہ کرنے کا دعویٰ
توانائی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی رکاوٹ کے باعث عالمی مہنگائی کا طوفان آنے کا خدشہ ہے اور صنعتی ممالک کے صارفین بھی مہنگائی سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے سے توانائی کے دیگر شعبے بھی متاثر ہو رہے ہیں، جس سے ایندھن اور دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ صورتِ حال عالمی معاشی پالیسی سازوں کے لیے چیلنج بن گئی ہے اور مستقبل قریب میں توانائی کی قیمتوں کی مزید اتار چڑھاؤ کا امکان ہے۔












