04:53 , 22 اپریل 2026
Watch Live

پوپ لیو کی مذہب کے نام پر جنگ کی مذمت، جنگ بندی اور مذاکرات کی اپیل

پوپ لیو

ویٹی کن سٹی میں کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے جنگ کے جواز کے لیے مذہب کے استعمال کی سخت مذمت کرتے ہوئے عالمی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی طرف آئیں۔

پام سنڈے کے موقع پر St. Peter’s Square میں منعقدہ دعائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پوپ لیو نے کہا کہ مذہب کو تشدد اور جنگ کے لیے استعمال کرنا انسانی اور روحانی اقدار کے خلاف ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جو لوگ جنگ کو مذہبی رنگ دے کر جائز قرار دیتے ہیں، وہ دراصل ایمان کی اصل روح کو مسخ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “جنگ کرنے والوں کی دعائیں خدا قبول نہیں کرتا۔”

پوپ لیو نے تمام فریقین سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر لڑائی بند کریں اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں تاکہ معصوم جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔

پوپ لیو کا مشرقِ وسطیٰ میں تشدد کے خاتمے اور مذاکرات کا مطالبہ

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ کشیدگی میں بعض رہنما جنگی اقدامات کو مذہب کے نام پر درست قرار دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں، جس پر عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔

اسی تناظر میں امریکی وزیر دفاع Pete Hegseth کے بیان نے بھی بحث کو جنم دیا، جس میں انہوں نے ایران کے خلاف کارروائی کو مذہبی تناظر میں پیش کرنے کی کوشش کی۔

ماہرین کے مطابق پوپ لیو کا بیان عالمی امن کے لیے ایک اہم پیغام ہے، جو مذہب کو امن، رواداری اور انسانیت کے فروغ کے لیے استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION