03:19 , 30 اگست 2025
Watch Live

دماغی بڑھاپے کو روکنے والا پروٹین دریافت

دماغی بڑھاپے کو روکنے والا پروٹین دریافت
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان فرانسسکو کے محققین نے ایک نیا پروٹین دریافت کیا ہے جسے FTL1 کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پروٹین دماغ کے بڑھاپے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور یادداشت پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔ اس دریافت نے بڑھاپے کے عمل کو سمجھنے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

 

چوہوں پر کیے گئے تجربات میں محققین نے پایا کہ ہپوکیمپس میں FTL1 کی مقدار زیادہ تھی۔ یہ دماغ کا وہ حصہ ہے جو یادداشت اور سیکھنے سے جڑا ہے۔ زیادہ مقدار نے دماغی خلیوں کے درمیان رابطے کم کر دیے، نشوونما سست ہو گئی اور یادداشت متاثر ہوئی۔

جب محققین نے FTL1 کو کم کیا تو حیران کن نتائج سامنے آئے۔ عمر رسیدہ چوہوں کے دماغی خلیے زیادہ جڑ گئے اور ان کی یادداشت کے ٹیسٹ بہتر ہوئے۔ ماہرین نے کہا کہ یہ عمل صرف بڑھاپے کو روکنے کا نہیں بلکہ اس کے اثر کو پلٹنے کا ہے۔

تحقیق کے مرکزی سائنسدان سول ویلاڈا نے کہا کہ یہ دریافت نئی امید دیتی ہے۔ ان کے مطابق یہ صرف تاخیر نہیں بلکہ نوجوان دماغ کی صلاحیت واپس لانے کا امکان ہے۔ اسی وجہ سے اسے ایک بڑی سائنسی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید یہ کہ ماہرین نے نوٹ کیا کہ FTL1 کی زیادہ مقدار خلیوں کے میٹابولزم کو بھی سست کرتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ پروٹین صرف یادداشت ہی نہیں بلکہ دماغی کارکردگی کے دوسرے پہلوؤں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دریافت کو بہت اہم سمجھا جا رہا ہے۔

اب محققین اس پروٹین کو نشانہ بنا کر نئی تھراپیز تیار کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد انسانی دماغی صلاحیت کو بہتر بنانا اور یادداشت کو مضبوط کرنا ہے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION