عالمی کشیدگی کے اثرات کورونا سے بھی زیادہ، سعودی وزیر خزانہ کا بیان

محمد الجدعان نے کہا ہے کہ حالیہ عالمی کشیدگی کے اثرات COVID-19 سے بھی زیادہ سنگین ثابت ہو سکتے ہیں، جو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔
میامی میں ہونے والے فیوچر انویسٹمنٹ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت غیر یقینی صورتحال سے گزر رہی ہے جس کے اثرات ہر شعبے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔
سعودی وزیر خزانہ کے مطابق عالمی سپلائی چین شدید متاثر ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں پیداوار، تجارت اور ترسیل کے نظام میں خلل پیدا ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جاری جنگی حالات نے توانائی اور زرعی منڈیوں کو خاص طور پر متاثر کیا ہے، جہاں تیل، گیس اور کھاد کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
ان کے مطابق یہ عوامل عالمی مہنگائی میں اضافے اور معاشی سست روی کا سبب بن سکتے ہیں، جس سے ترقی پذیر ممالک زیادہ متاثر ہوں گے۔
تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب کی معیشت اب بھی مستحکم ہے اور سرمایہ کاری کے لیے پرکشش مواقع فراہم کر رہی ہے۔
محمد الجدعان نے عالمی تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ بحران سے نمٹنے کے لیے ممالک کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔













