جنوبی کوریا کی سابق خاتون اول کم کیون ہی گرفتار

جنوبی کوریا کی سابق خاتون اول کم کیون ہی کو عدالت سے منظوری کے بعد گرفتار کر لیا گیا۔
وہ سابق صدر یون سک یول کی اہلیہ ہیں جو اس وقت جیل میں ہیں۔ حکام کے مطابق ان پر اسٹاک فراڈ، رشوت اور غیر قانونی اثر و رسوخ کے الزامات ہیں۔ یہ گرفتاری جنوبی کوریا کے جاری سیاسی اسکینڈلز میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد معاملے پر عوامی توجہ میں اضافہ ہوا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق کم پر الزام ہے کہ انہوں نے 43 ہزار ڈالر سے زائد مالیت کا لگژری وین کلیف پینڈنٹ پہنا۔ یہ پینڈنٹ انہوں نے صدر یون کے ساتھ نیٹو سمٹ میں پہنا تھا۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ زیور اپنے اثاثوں کے گوشوارے میں ظاہر نہیں کیا۔ ان کا الزام ہے کہ یہ زیور ایک تعمیراتی کمپنی نے فراہم کیا۔ اس طرح کے تحائف جنوبی کوریا کے قانون کے تحت غیر قانونی فائدہ تصور ہوتے ہیں۔
کم کیون ہی نے الزامات کی تردید کی اور کہا کہ پینڈنٹ جعلی ہے۔ ان کے مطابق یہ 20 سال پہلے ہانگ کانگ سے خریدا گیا تھا۔ تاہم استغاثہ کا اصرار ہے کہ یہ اصلی ہے اور اسے کارپوریٹ فائدے کے طور پر دیا گیا۔ پینڈنٹ سے متعلق یہ تنازع کیس کا مرکزی نکتہ بن چکا ہے۔ تفتیش کار دیگر قیمتی اشیاء کی بھی جانچ کر رہے ہیں جو مبینہ طور پر کم کو دی گئی تھیں۔
مزید الزامات کے مطابق کم نے دو چینل بیگز اور ہیرے کا ہار بھی رشوت میں لیا۔ کیس میں سابق صدر یون پر بھی سنگین الزامات ہیں۔ ان میں بغاوت اور اختیارات کے غلط استعمال شامل ہیں۔ دونوں نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے پراسیکیوشن سے تعاون کرنے سے انکار کیا ہے۔ اس رویے نے اس ہائی پروفائل مقدمے میں مزید کشیدگی پیدا کر دی ہے۔
















