اسٹیٹ بینک رپورٹ میں معاشی بہتری کے اشارے

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی نئی ششماہی زری پالیسی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال اور آئندہ رجحانات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق محتاط مالی فیصلوں اور مالی نظم و ضبط کی بدولت معاشی حالات میں بہتری آئی ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک کی ششماہی زری پالیسی رپورٹ مستقبل کے لیے محتاط امید ظاہر کرتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مہنگائی مالی سال 2026 اور 2027 کے بیشتر عرصے میں 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے اندر رہنے کی توقع ہے۔ تاہم، اس دوران قلیل مدتی اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے، جو عالمی اور مقامی عوامل کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ اگرچہ تجارتی خسارہ زیادہ رہے گا، لیکن بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر اور سرکاری آمدنیاں اس خلا کو کسی حد تک پورا کریں گی۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا بات چیت سے پہلے تیل کی قیمتوں میں گراوٹ
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاشی استحکام، مالی نرمی اور کیش ریزرو ریکوائرمنٹ (سی آر آر) کو 5 فیصد تک کم کرنے سے کاروباری سرگرمیوں میں بہتری آئی ہے۔ ان اقدامات سے سرمایہ کاری اور مجموعی معاشی سرگرمی کو سہارا ملا ہے۔
ان مثبت پیش رفتوں کے باعث معاشی نمو کے امکانات بہتر ہو گئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2026 میں جی ڈی پی کی حقیقی شرح نمو 3.75 سے 4.75 فیصد رہنے کی توقع ہے، جبکہ مالی سال 2027 میں مزید بہتری کا امکان ہے، جس کی عکاسی اسٹیٹ بینک کی ششماہی زری پالیسی رپورٹ میں واضح طور پر کی گئی ہے۔


















