ٹیکساس میں H-1B ویزا فراڈ تحقیقات، ٹیک کمپنیوں کیخلاف کارروائی

امریکی ریاست ٹیکساس میں H-1B ویزا فراڈ تحقیقات کا آغاز ہو گیا ہے، جس میں متعدد ٹیک کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ اٹارنی جنرل کین پیکسٹن نے اس بڑے پیمانے کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔
مزید برآں، حکام نے تقریباً 30 کمپنیوں کو سول تحقیقاتی نوٹسز جاری کیے ہیں۔ ان نوٹسز کے ذریعے ملازمین کی تفصیلات، مالی ریکارڈ اور کاروباری سرگرمیوں سے متعلق معلومات طلب کی گئی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد کمپنیوں کی قانونی حیثیت کا جائزہ لینا ہے۔
اس کے علاوہ، تحقیقات میں یہ شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ بعض کمپنیوں نے H-1B پروگرام کا غلط استعمال کیا۔ رپورٹس کے مطابق کچھ اداروں نے “گھوسٹ آفسز” قائم کیے، جہاں حقیقی کاروباری سرگرمیاں موجود نہیں تھیں بلکہ صرف ویزا اسپانسرشپ کے لیے استعمال کیا گیا۔
مزید یہ کہ ڈیلس فورٹ ورتھ کے کئی آئی ٹی ادارے اس تحقیقات کی زد میں ہیں۔ حکام کے مطابق ان کمپنیوں کے کاروباری ماڈلز اور ملکیتی ڈھانچے میں شفافیت کی کمی پائی گئی ہے، جس سے مزید شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں۔
آخر میں، حکام نے واضح کیا کہ ابھی تک کسی کمپنی کو قصوروار قرار نہیں دیا گیا۔ تاہم تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔ مجموعی طور پر ٹیکساس میں H-1B ویزا فراڈ تحقیقات نے امیگریشن نظام اور ٹیک انڈسٹری میں شفافیت پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

















