04:57 , 22 اپریل 2026
Watch Live

ٹرمپ انتظامیہ نے 6 ہزار غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کر دیے

غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ
ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا میں زیر تعلیم 6 ہزار غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کر دیے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق زیادہ قیام اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی بڑی وجوہات ہیں۔ ایک چھوٹی تعداد ان افراد کی بھی ہے جن پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام ہے۔

یہ قدم ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسی کے سخت کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔ حکام نے طلبہ کے ویزوں پر مزید سخت رویہ اختیار کیا ہے۔ اب غیر ملکی طلبہ کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی بھی سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سیکیورٹی اسکریننگ کا دائرہ بڑھا دیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق چار ہزار ویزے امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی پر کینسل کیے گئے۔ مزید دو سو سے تین سو ویزے جرائم سے متعلق کیسز میں منسوخ ہوئے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت طلبہ کے خلاف سخت رویہ اختیار کر رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے بارڈر سیکیورٹی مزید مضبوط ہو گی۔

اسی دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر ملکی طلبہ کے لیے محدود مدت کے ویزے کی نئی تجویز بھی دی ہے۔ ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ نے اس منصوبے کو آفس آف مینجمنٹ اینڈ بجٹ کے جائزے کے لیے بھجوا دیا ہے۔ اس تجویز کے تحت طلبہ کے قیام کی مدت مقرر ہو گی۔ مدت ختم ہونے کے بعد قیام ممکن نہیں رہے گا۔

یہ خیال دراصل نیا نہیں ہے۔ ٹرمپ نے پہلی بار یہ تجویز 2020 میں اپنی پہلی مدتِ صدارت میں پیش کی تھی۔ اب دوسری مدت میں امیگریشن پالیسی مزید سخت کرنے کے ساتھ یہ منصوبہ دوبارہ سامنے آیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ان کے سخت ویزہ قوانین کا حصہ ہے۔ حامی اسے قوانین کے غلط استعمال روکنے کا طریقہ کہتے ہیں، لیکن ناقدین اسے امریکی جامعات کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہیں۔

فی الحال موجودہ قوانین کے تحت F-1 ویزا رکھنے والے طلبہ اپنی تعلیم مکمل ہونے تک امریکا میں رہ سکتے ہیں۔ اسی طرح J-1 ویزا رکھنے والے طلبہ اور میڈیا نمائندے ٹریننگ مکمل ہونے تک قیام کر سکتے ہیں۔ تاہم نئی تجویز کے بعد یہ سہولت ختم ہو جائے گی۔ اس سے طلبہ کو مختصر قیام اور غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION