ٹرمپ کا ایران پر سخت مؤقف، آبنائے ہرمز تنازع

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنا چاہتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران امریکا کو بلیک میل نہیں کر سکتا۔ یہ بیان عالمی کشیدگی میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔
اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور یہ بہتر سمت میں جا رہے ہیں۔ لیکن انہوں نے زور دیا کہ امریکا کسی دباؤ یا دھمکی کو قبول نہیں کرے گا۔ اس لیے آبنائے ہرمز کا معاملہ کسی بلیک میلنگ کے لیے استعمال نہیں ہو سکتا۔
مزید برآں ٹرمپ نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کا ذکر کرتے ہوئے اپنے فیصلے کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ سلیمانی امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں اور حملوں کا ذمہ دار تھا۔ اسی دوران انہوں نے اعلان کیا کہ ایران سے متعلق اہم معلومات جلد جاری کی جائیں گی۔
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز پر نئی پابندیاں، ایران کا امریکا پر اعتماد توڑنے کا الزام
اسی طرح ٹرمپ نے اسپین پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس کی معیشت کمزور ہو چکی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسپین نیٹو میں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ امریکا کو کسی ملک کی اجازت کی ضرورت نہیں۔
آخر میں ٹرمپ نے صحت کے شعبے میں اصلاحات اور ادویات کی قیمتوں میں کمی کا ذکر کیا۔ انہوں نے منشیات کی اسمگلنگ میں کمی کو بھی کامیابی قرار دیا۔ مجموعی طور پر ٹرمپ کا ایران پر سخت مؤقف آبنائے ہرمز تنازع بڑھا رہا ہے اور عالمی سیاست میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
- رحیمہ بی بی کیس نے بلوچستان میں منظم بھرتی اور سرحد پار سہولت کاری کے نیٹ ورک کو بے نقاب…7 گھنٹے پہلے












