رحیمہ بی بی کیس: بلوچستان میں دہشت گرد نیٹ ورک بے نقاب
رحیمہ بی بی کیس نے بلوچستان میں منظم بھرتی اور سرحد پار سہولت کاری کے نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے، جس پر سکیورٹی اداروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کوئٹہ میں ہونے والی پریس بریفنگ کے دوران حکام نے رحیمہ بی بی کا اعترافی بیان پیش کیا، جس میں انہوں نے مبینہ طور پر اپنے شوہر کی جانب سے عسکری سرگرمیوں میں سہولت کاری کی تصدیق کی۔
رحیمہ بی بی کیس کے مطابق ایک خاتون خودکش حملہ آور زریں رفیق ان کے گھر میں مقیم رہی اور بعد ازاں اسے سرحد پار منتقل کیا گیا، جس سے محفوظ ٹھکانوں کے استعمال پر سوالات اٹھے ہیں۔
حکام کے مطابق رحیمہ بی بی کیس میں یہ بھی سامنے آیا کہ ذاتی موبائل نمبر کو شدت پسند عناصر سے رابطے اور رابطہ کاری کے لیے استعمال کیا گیا۔
سکیورٹی اداروں کے مطابق رحیمہ بی بی کیس ظاہر کرتا ہے کہ خواتین اور کمزور افراد کو منظم انداز میں بھرتی اور ذہنی دباؤ کے ذریعے استعمال کیا جا رہا ہے۔
تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ رحیمہ بی بی کیس ایک بڑے نیٹ ورک کی نشاندہی کرتا ہے جس میں بھرتی، تربیت اور عملی کارروائیاں منظم گروہوں کے ذریعے انجام دی جاتی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ رحیمہ بی بی کیس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سرحد پار تربیتی اور لاجسٹک سپورٹ کے ذریعے دہشت گرد سرگرمیوں کو منظم کیا جاتا ہے۔
- رحیمہ بی بی کیس نے بلوچستان میں منظم بھرتی اور سرحد پار سہولت کاری کے نیٹ ورک کو بے نقاب…1 گھنٹہ پہلے
- رحیمہ بی بی کیس نے بلوچستان میں منظم بھرتی اور سرحد پار سہولت کاری کے نیٹ ورک کو بے نقاب…1 گھنٹہ پہلے










